قاتِل کورونا

(اِسحاق ساجِد)

طائر سب خاموش ہیں، موسم طوفانی
کوچہ کوچہ دیکھا، ہر جا ویرانی
کِس نے ڈھایا قہر یہ کون ستمگر ہے
دھرتی پر اترا یہ کون سِکندر ہے
خوف بھرا ہے دل میں تیز ہوائوں نے
توڑ دیا ہے دم ساری آشائوں نے
گلشن میں اب سوکھ رہی ہے ہر ڈالی
کلی کی صورت بھی لگتی ہے اب کالی
درد ’’کورونا‘‘ لے کر آیا آنگن میں
پھول نہیں اب خار بھرے ہیں دامن میں
انجانا اِک خوف ہے غم کا عالَم ہے
ہنستے بستے گھروں میں دورِ ماتم ہے
سجدے میں اشکوں کے دھارے نکلے ہیں
پتھر دل بھی موم بنے اور پگھلے ہیں
توبہ استغفار دلوں سے جاری ہے
یہ آفت تو ہر آفت پہ بھاری ہے
جلد اٹھا لے مولیٰ پاک ، مصیبت کو
بھیج جہاں میں پھر سے اپنی رحمت کو
دنیا بھر نے وار سہا ہے قاتل کا
حال بُرا ہے ساجِدؔ آج تو ہر دِل کا

Comments are closed.