مرے خدا

(شوکت محمود شوکت)

شہرِ مثال ، صورتِ صحرا ، مرے خدا
ہر سمت ، خوفِ مرگ کا غوغا ، مرے خدا

سوچا ! تو کیسے کیسے گلستاں اجڑ گئے
دیکھا ! تو ایک حشر ہے برپا، مرے خدا

چارہ گرانِ شہر بھی لاچار ہو گئے
چاروں طرف ، مَرض ہے وہ، پھیلا ، مرے خدا

وا حسرتا ! کہ راہ روانِ رہِ وفا
بیٹھے ہیں گھر میں ڈال کے ڈیرا ، مرے خدا

دھرتی پہ میری روز اک آفت نئی کوئی
’’ڈینگی‘‘ ہو وہ کہ کوئی ’’کرونا‘‘ مرے خدا

اہلِ جہاں اداس کہ جینے کا اب یہاں
آتا نہیں نظر کوئی رستہ ، مرے خدا

ویران مسجدوں کا تصور ہے ہولناک
خالی ہوا ہے اب کے تو کعبہ ، مرے خدا

اب دوستوں سے ہاتھ ملانا تو درکنار
ہے بار دوستی کا زمانہ ، مرے خدا

لگتا ہے اب تو خون کے رشتے ، تمام شد
نالاں ہے اب کے باپ سے بیٹا ، مرے خدا

اعدا کا اب کے خوف نہ اغیار ہی کا ڈر
اب کے ہے اپنی ذات سے خطرہ ، مرے خدا

دنیائے آب و گل بھی تو آئی سمجھ میں خوب
دنیائے آب و گل بھی ہے دھوکا ، مرے خدا

شہرت ہو وہ کہ شوکتِ دارا کہیں جسے
ہر شے فضول لگتی ہے گویا ، مرے خدا

یک لخت ختم ہو گئی رونق جہان کی
دنیا کی چہل پہل ہے عنقا، مرے خدا

دل ہیں بجھے بجھے سے ، پریشاں نظر بھی ہے
ایسے میں لطفِ خاص ہو تیرا ، مرے خدا

شوکتؔ ! دعائے خیر یہ میری ہو مستجاب
شیطاں کی طرزِ بد سے بچانا ، مرے خدا

Comments are closed.