شہر میں جب سے کرونا کی وبا پھیلی ہوئی

(وسیم جبران)

شہر میں جب سے کرونا کی وبا پھیلی ہوئی
ہر گلی کوچے میں جیسے ہے قضا پھیلی ہوئی

ہم قرنطینہ میں ہیں بس اک کرونا کے سبب
خوف اور دہشت جہاں میں ہر جگہ پھیلی ہوئی

رائے دیتا ہے کوئی یہ ہے فلو اک قسم کا
کوئی کہتا ہے گناہوں کی سزا پھیلی ہوئی

چین کے اک شہر سے پھوٹی وبا پہلے پہل
آج ہے آفاق پر جیسے گھٹا پھیلی ہوئی

ہو کا عالم ہے سبھی بازار بھی ویران ہیں
دھاڑتی پھرتی ہے اک خونی بلا پھیلی ہوئی

سب کو اپنے گھر میں اب محدود رہنا چاہیے
یہ سماجی رابطوں سے جا بجا پھیلی ہوئی

اب گلے ملتے نہیں ہم،ہاتھ بھی ملتے نہیں
دور سے ہی سر ہلانے کی ہوا پھیلی ہوئی

دیکھ بیماری سے بچنے کو ہیں لازم فاصلے
ہم کو اک دوجے سے کرنے کو جدا پھیلی ہوئی

مات کھا جائے گی ہم سے اور فنا ہو جائے گی
چار سو جبران جو موذی وبا پھیلی ہوئی

Comments are closed.