ابھی میرے جینے کے دن ہیں

(ڈاکٹر محمد کامران)

کورونا کے مریضوں کے لیے ایک نظم

ابھی میرے جینے کے دن ہیں
ابھی دل اُمنگوں سے آباد ہے
ابھی زندگی کے کٸی ایسے رنگ اور کٸی ذاٸقے ہیں
جو اگلی گلی میں مرے منتظر ہیں
ابھی کتنی ہی بستیاں اور کتنے جزیرے مرے خواب میں آ رہے ہیں
ابھی میں نے دنیا کو تھوڑا سا دیکھا ہے
سمجھا نہیں ہے
ابھی میں نے اُس پیکرِحسن کو کھل کے دیکھا نہیں ہے
ابھی اُس کی آنکھوں کی حیرانیوں پر مری نظم پوری نہیں ہو سکی ہے
ابھی ریت مُٹھی سے پِھسلی نہیں ہے
ابھی زندگی مجھ سے روٹھی نہیں ہے
ابھی میرے جینے کے دن ہیں
ابھی میرے جینے کے دن ہیں

Comments are closed.