وبا شہر میں پھیلی ہے

(ڈاکٹر محمد اشرف کمال)
نظم
شہر کے لوگ جدھر جائیں گے
اپنے ہی خوف سے مر جائیں گے
وہ وبا شہر میں پھیلی ہے کہ ہم
پاس آئیں گے تو مر جائیں گے ۔.
دل کا سوچو کہ جڑے گا کیسے
زخم تو زخم ہیں بھر جائیں گے
اب یہی سوچ کے گھر بیٹھے ہیں
گھر سے نکلے تو کدھر جائیں گے
ہم کو اس وقت سے ڈر لگتا ہے
جب ترے دل سے اتر جائیں گے
قفل ہیں شہر کے دروازوں پر
دستکیں دینے کدھر جائیں گے
تم بھی ہو بادِ صبا کا جھونکا
ہم بھی خوشبو ہیں بکھر جائیں گے
یہ عجب وقت بھی آنا تھا کمال
لوگ سائے سے بھی ڈر جائیں گے

Comments are closed.