دنیا ہے عبرت کی جا

(ڈاکٹرمحمد اقبال صامصامؔ)

دنیا ہے عبرت کی جا
دھوکے پردھوکا نہ کھا

کورونا کی دہشت سے
ہر بندہ اکھڑا اکھڑا

گلیاں ساری ہیں سُنسان
بستی بستی سنّاٹا

پھرتے ہیں اب سڑکوں پر
کھل کر چوپاۓ بھی آ

چُپ چُپ اب کیوں رہتا ہے
کُچھ تو دل کا حال سُنا

پِنڈے کا سودا نہ کر
اور نجاست نہ پھیلا

اخلاقی قدریں اپنا
اپنی مرضی چھوڑ ذرا

شامت ہے اعمالوں کی
باز بُراییؑ سے آجا

انسانیّت جب بھٹکی
اللہ نے بھی جھنجھوڑا

کورونا اک جھٹکا ہے
انساں تھا بھٹکا بھٹکا

وقت مُقرّرمرنے کا
کورونا سے کیا ڈرنا

ہے یہ ہی صمصامؔ دُعا
ھو جاۓ یہ ختم وبا

Comments are closed.