قرنطینہ میں جینے والے

(نجمہ منصور)

قرنطینہ میں قبر جیسی خاموشی
بنا آواز کے بین کر رہی تھی
اور قرنطینہ کی کھڑکی سے جھانکتی
دو آنکھیں
کسی اپنے کو دیکھنے کی حسرت لیے
ٹکٹکی باندھے
اس زنگ آلود چٹخنی کو تک رہی تھیں
جو شاید برسوں سے بند پڑی تھیں
کھڑکی کے بالکل پاس آ کر
نوے کے زاویے پر جھکی اس کی آنکھیں
یکدم برسنے لگیں
بالکل کل رات موسلا دھار ہونے والی بارش کی طرح
اس کے اندر اور باہر کے موسم آپس میں گڈ مڈ ہونے لگے
اس گھڑی کھڑکی کے بالکل سامنے ایستادہ
بےنام پیڑ پر دو پرندے
اسے اپنے آپ سے زیادہ خوش بخت لگے
جو چونچ سے چونچ ملائے بےخبر بیٹھے تھے
اس کے سرخ پپوٹوں سے چپکی پرانی یادیں
اس کا منہ چڑانے لگیں
اس سے پہلے کہ
موت کا الارم بجتا
اس سے بھی پہلے کہ
ایک بےجان خلیے کا خوف دھیرے دھیرے
اسے زندہ کھا جاتا اور
اس کا کھنکتا ہوا بدن
دھنکی ہوئی روئی کی طرح
کسی پلاسٹک بیگ میں تحلیل ہو جاتا
وہ ٹھان چکی تھی کہ
اسے قرنطینہ میں موت کا ذائقہ
ہرگز نہیں چکھنا
وہ ٹھان چکی تھی کہ
اسے ابھی بہت جینا ہے!!!

Comments are closed.