ہے عجب گردشِ حالات، خدا خیر کرے

(محمد خالد خان)

ہے عجب گردشِ حالات، خدا خیر کرے
اب وہ پہلی سی نہیں بات، خدا خیر کرے

کتنے بدلے ہوۓ لگتے ہیں مرے شہر کے لوگ
چہرے چہرے پہ ہیں صدمات، خدا خیر کرے

اب کوٸی ہاتھ ملاتا ہے تو خوف آتا ہے
کیسے ان دیکھے ہیں خدشات؟ خدا خیر کرے

موسمِ گل میں چلے گی جو کبھی بادِ سموم
پھر نہ گل ہوں گے نہ باغات، خدا خیر کرے

ایک اک گھر ہے یہاں دشت کی صورت کب سے
ختم ہوتی نہیں آفات، خدا خیر کرے

بیٹھکیں بند ہیں ہر بزم میں سناٹا ہے
جذبِ باہم ، نہ ملاقات، خدا خیر کرے

موت کے خوف سے چھوٹا ہے خدا کا گھر بھی
اب نہ سجدے نہ عبادات، خدا خیر کرے

روز ملنے کی نہ صورت ہے نہ آثار کوٸی
پہلے حیلوں کی تھی بہتات، خدا خیر کرے

اب جنوں ہجر کے اسباب بنا لیتا ہے
اب کہاں وصل کے ثمرات، خدا خیر کرے

چلتا رہتا تھا کبھی خواب میں ہنگامِ زماں
جانے کب لوٹے گی وہ رات، خدا خیر کرے

جو تُو کہتا ہے وہ کرکے بھی دکھا دنیا کو
جبر کی توڑ روایات، خدا خیر کرے

Comments are closed.