نئی شیرازہ بندی ہے نئے منظر کا نقشہ ہے

(شمسہ نورین)

نئی شیرازہ بندی ہے نئے منظر کا نقشہ ہے

مگراس خوف کے پیچھے نئے انساں کا چہرہ ہے
بہت ہی تیز-رفتاری سے چلتے تھے سبھی راہی
اشارہ اک ہوا ایسا کہ جیون آ ن ٹھہرا ہے

کسی موہوم جرثومے نے سکھلایا سبق سب کو
وہی ہے قادرمطلق وہی طاقت کا منبع ہے

یہ بند ہوتے ہوئے رستے یہی اعلان کرتے ہیں
ہمارے پاس اب شاید فقط توبہ کا رستہ ہے

سراب زندگی ہم سے لپٹ کر آج کہتا ہے
یہ دنیا آزمائش ہے یہ دنیا ایک دھوکہ ہے

Comments are closed.