یہ لمحہ دعا کا ہے

(طاہر یاسین طاہر)

یہ لمحہ دعا کا ہے
دنیا پہ خوف چھایا ہوا انتہا کا ہے
نادِ علی ؑ کو پڑھیے،یہ وقت التجا کا ہے
نادِ علی ؑ کو پڑھیے، مگر اس یقیں کے ساتھ
ٹل جائے گی بَلا ،کہ یہ وعدہ خدا کا ہے
آفت پڑی ہوئی ہے،قیامت کا شور ہے
سب کو بقا کی فِکر ہے،شعلہ فنا کا ہے
گھر میں ہجومِ ِکرب ہے،اور شہر میں بلا
ساری زمین ٹکڑا بنا کربلا کا ہے
اللہ ہے کریم ،یہ انساں کرے یقین
توبہ کا در ہے باز،یہ لمحہ دعا کا ہے
کیا وقت ہے کہ سانس بھی لیتا ہوں راز سے
حالانکہ سر پہ سایہ مرے لا اِلہ کا ہے!
لڑ جاتا تھا جو آندھیوں سے خوف کے بغیر
ڈر آج اس چراغ کو باد ِ صبا کا ہے
انسان اس قدر کبھی پہلے ڈرا نہ تھا
جیسا کہ خوف آج اسے آشنا کا ہے
پہچانتا نہیں ہے،شناسا جو دیکھ کر
یعنی بشر کو خوف یہ درد آشنا کا ہے
میں ڈھونڈتا ہوں شہر میں چہرہ دکھائی دے
صحرا میں اب سراب،کسی نقش ِ پا کا ہے
ارض ِ ہنر کے سارے ہنر ور ہیں سوچ میں
یہ عہد عقل و فہم کا؟ یا ابتلا کا ہے؟
آنکھوں کے سارے خواب اڑے،نقش رہ گیا
یہ نقش مِہ جبین کے دست ِ حنا کا ہے
اندھی عقیدتوں کے تو بت پاش پاش ہیں
محتاج اب یہ عہد،خدا سے شفا کا ہے
آنکھوں کی اپنی ضد ہے،مگر دشت ِ شہر میں
چہرہ نہیں ہے، اور نہ سایہ گھٹا کا ہے
طاہرؔ ترے ہنر سے ہے شاخ ِ قلم ہری
سایہ ازل سے تجھ پہ جو دست ِ خدا کا ہے

Comments are closed.