جرا ثیموں بھری سوئی سے تن کو سی رہے ہیں

(عاصم ندیم عاصی)

جرا ثیموں بھری سوئی سے تن کو سی رہے ہیں
دوائی زہر سی ھے زہر بھی تو پی رہے ہیں

ہمارا سانس ہی سر طان بن جائے نہ دل کا
ہم ایسی حبس آمیزہ ہوا میں جی رہے ہیں

قرنطینہ میں رکھے ہوں یا اہراموں کے اندر
بدن عبرت سرا ماحول پرطاری رہے ہیں

تگ و تازِ نفس ھے موت کے مدِمقابل
لہو انسان کا نادیدہ کیڑے پی رہے ہیں

سرشتِ آدمی میں ہارنا شامل نہیں ھے
مسائل جوبھی ہیں حالات جیسے بھی رہے ہیں

تو کیا ھے گر ملا دیں جھوٹ اور سچائی کے جِین
وہ ایسے تجربے ویسے بھی تو کر ہی رہے ہیں

نئی دنیاؤں کے جو پاسورڈ سوچے ہیں ہم نے
وہ عاصم زندگی کی ابتدائی,, کی,, رہے ہیں

Comments are closed.