دعائیں کر رہے ہیں

(انیس احمد)

وبا مجموعی میں ایسی دعائیں کر رہے ہیں
کرونا ختم ہو ، سب ہی دعائیں کر رہی ہیں
ملے امداد غیبی اب ، نظر افلاک پر ہے
دلوں سے اور زباں سے بھی دعائیں کر رہے ہیں
جمال_ یار میں کوئی کمی آنے نہ پائے
دل و جان ہر گھڑی اچھی دعائیں کر رہے ہیں
جہان_ عشق تو احساس کا منبع ہے ایسا
جنہیں اک سے بھی چاہت تھی دعائیں کر رہے ہیں
نظر ڈالی ہے جو لاھور پر اونچی جگہ سے
مکاں اپنے مکینوں کی دعائیں کر رہے ہیں
انیس احمد سدا” امید پر ہے دنیا قائم”
برائے زندگی گہری دعائیں کر رہے ہیں

Comments are closed.