عجیب فتنۂ دہشت ، کمال سازشِ خوف

(طارق ہاشمی)

عجیب فتنۂ دہشت ، کمال سازشِ خوف
ہوئی ہے پھر کوئی تدبیرِ وہم و کاوشِ خوف

اکیلے صحن میں بیٹھا ہوا تماشائی
لگی ہوئی در و دیوار پر نمائش ِ خوف

کتابِ ہست میں کیفیت اور لکھی ہی نہیں
ہر اک ورق پہ رقم ہے فقط نگارشِ خوف

عجب طرح سےیہ اعصاب ڈرکےعادی ہوئے
ہماری آنکھوں میں رہنےلگی ہےخواہش ِ خوف

حصار کھینچا گیا آسمان تک طارق
اور اس دیار میں جاری رہی ستائشِ خوف

Comments are closed.