وفا کی نشانیوں میں عشق کی روانیوں میں

(منصف ہاشمی)

نثری نظم

“امید زیست”

وفا کی نشانیوں میں…عشق کی روانیوں میں…!
کشش کاف کا صحیفہ کھلتا نہیں.
محراب عصر پر…!
آنکھیں…دل نچوڑا…!
پھر بھی وبا کا درندہ قتل ہوا نہیں.
میرے وطن کے ڈاکٹر عظیم…!
سائنسداں لازوال ہیں .
“امید زیست”…. عہد وفا کے علمدار ہیں.
وہ سبز بہار کے محمل پر…زندگی…روشنی…لکھ رہےہیں
خزاں کی رگیں کٹ رہی ہیں.
بس بہار آنے والی ہے.

Comments are closed.