نہیں کوٸ جاۓ پناہ نہیں

(افشاں شیخ)

دعا
نہیں کوٸ جاۓ پناہ نہیں
بس اِک تیرا ہی ہے آسرا

تجھے کیوں نہ ہر دَم پُکارا کروں
بس تیرے سوا نہیں دُوسرا

شبِ غم شبِ ہِجر بھی گُذَر چکیں
یہ آندھیاں بھی گذر چکیں
ہے چار سُو بَس قِہر پڑا
بس کردے نظرِ کَرم ذرا

مجھے خود سے کبھی نہ کر جدا
میں نے خود کو کر لیا تباہ
میرے قلب میں جو تھی روشنی
چاہِ دُنیا میں سب بکھر گٸ
مجھے اپنے نور سے دے جِلاء
تیرےدَر پہ ہے عاصی کھڑا

مجھے میرے رَب تُو بخش دے
نہ کروُں گا اَب ایسی خطا
تجھے واسطہ ہے حُسین کا
تیرے حبیب کے بھی حبیب کا
کردے معاف میری ہَر خطا
بس اِک تیرا ہی ہے آسرا

نہیں کُوٸ جاۓ پناہ نہیں
بس اِک تیرا ہی ہے آسرا

Comments are closed.