موسمِ گل بھی نہیں آیا ہے راس

(محمد اقبال سروبہ)

موسمِ گل بھی نہیں آیا ہے راس

زرد ہو کر رہ گئی ہے سبز گھاس
خوش بیانی پھر رہی ہے اب اُداس
وقت نے مرہم کو مخفی کر دیا
زخم سب کے سامنے ہیں بے لباس
کیا شکایت ہم خزاؤں سے کریں
موسمِ گل بھی نہیں آیا ہے راس
عالَم ِ فانی فنا کا انتظار
کیا خبر کس شکل میں ہو آس پاس
ہم ہیں متلاشی سکوں کے آج کل
اور چاروں سمت ہے خوف و ہراس
اب تو ہیں اقبال ؔ سے انجان سب
جو بنے پھرتے تھے یاں چہرہ شناس

Comments are closed.