زاغنوں کی بازی گریاں

(سعادت سعید)

زاغنوں کی بازی گریاں

کھانستی ہوائوں نے گرسنہ تمدن کو بے نقاب کر ڈالا
تھوکتی ثقافت کو بے حجاب کر ڈالا

اک بلائے بے سر نے
رونقوںبھرے مسکن
یوں اجاڑ ڈالے ہیں
جیسے سارے رستوں میں دیو آن بیٹھے ہوں

مرگ رنگ جھونکوں نے
سانس لیتے باغوں کی زینتیں سمومی ہیں
ناگنی ہیولوں کی قریہ قریہ پھنکاریں
بے ثبات آدم کو زہر سے ڈراتی ہیں

آفتوں کی دیواریں خوف کے پرندوں سے
بھر گئی ہیں چپکے سے
اک وبائے بے درماں خوں کے آبشاروں میں
دھیرے دھیرے بہتی ہے

فتنہ جو طواقت کو شرم کے خراطیں نے
آب آب کر ڈالا
ماہ آدمیت کو داغ داغ کر ڈالا
میڈیا کے بازوں کو زاغ زاغ کر ڈالا
——–
روبوٹی آدم کا ہبوط

خامشی کے معبد میں
بے قصور خلقت کے
سو بسو جنازے ہیں!

زخم خوردہ پرجائیں
اپنے راجگانوں سے
پوچھتی ہیں چپکے سے
’’کشت ہائے گیتی میں
تم نے بم اگائے ہیں
اب علاج کی خاطر
سانپ سونگھے شہروں پر
ان کو داغ دو
تاکہ
بے شکم روبوٹوں کا
اس زمیں پہ قبضہ ہو!

Comments are closed.