یہ مصیبت کی گھڑی

(اظہر عبّاس)
ایک جیسے تو نہیں رہتے سدا آج اور کل
وقت کیسا بھی ہو ٹل جاتا ہے
کوئی دریا ہو اتر جاتا ہے
مشکلیں قوموں پہ آتی ہیں ہمیش
ہم پہ آئ ہے تو کیا
ہم بھی دنیا کی کسی قوم سے کچھ کم تو نہیں
امتحاں کی یہ گھڑی ہے سو پریشان نہ ہو
یہ بھی اک روز گزر جاۓ گی
یہ مصیبت ہے مصیبت بھی کہاں تک رہے گی

Comments are closed.