وہ کہتا ہے کہ ہم وبا کے ستائے ہوے ہیں

(کرنل سید مقبول حسین)

وہ کہتا ہے کہ ہم وبا کے ستائے ہوے ہیں
کہانی یہ ہے بھوک سے بوکھلائے ہوئے ہیں
بھلا جال کس نے چھپایا ہے یہ آستیں میں
قدم بھی یہاں سب کے اب ڈگمگائے ہوئے ہیں
کرونا ہمیں نہ کہیں گھیر لینا یہاں تم
حروفِ دعا کچھ مرے ہاتھ آئے ہوئے ہیں
تحیر فضاؤں میں پھیلا ہوا ہے وطن میں
بریدہ پر و بال بھی پھڑپھڑائے ہوئے ہیں
سجی ہےغریبوں کی محفل یہاں اب کے سیدؔ
کہ اب اس سفر میں سبھی تنگ آئے ہوئے ہیں

Comments are closed.