کسی صورت انہیں سمجھایا جائے

(یوسف خالد)

جو ہجرت کر گئی تھیں فاختائیں
وہ لوٹ آئی ہیں یہ پیغام دینے
یہ گرتی آبشاریں بہتے چشمے
یہ بل کھاتی ہوئی پگڈنڈیاں
یہ خوبصورت وادیوں میں جھومتے لہراتے دریا
یہ کہساروں کا ماتھا چومتا سبزہ
گھنے جنگل
یہ صحراؤں میں ہر سو ٹوٹتے بنتے ہوئے ٹیلے
یہ خوشبو سے بھرے پھولوں کی بیلیں
یہ رنگوں کی صباحت سے مزیّن تتلیاں
یہ چہچہاتی ننھی چڑیاں
خوبصورت گیت گاتی کوئلیں
یہ خوش نما منظر
یہ سب چھوٹے بڑے گہرے سمندر
زمیں پر بسنے والوں کا اثاثہ ہیں
زمیں کے رزق میں حصہ ہے سب کا
زمیں سب کی ہے سب وارث ہیں اس کے
مگر یہ کیا
ہوس کا جال پھیلا کر زمیں زاد
اصولوں سے بغاوت کر رہے ہیں
امانت میں خیانت کر رہے ہیں
زمیں کے امن کو تاراج کر کے
یہ دہشت کی حمایت کر رہے ہیں
کسی صورت انہیں سمجھایا جائے
کہ یہ پاگل حماقت کر رہے ہیں
نئی افتاد ان کے روبرو ہے
کوئی تدبیر کام آتی نہیں ہے
سبھی اک دوسرے سے ڈر رہے ہیں
سمجھ جائیں تو شاید بچ بھی جائیں
یہ نا سمجھی کے ہاتھوں مر رہے ہیں
یوسف خالد

نظم — وقت سے آگے نکلی ہوئی نظم
——-
وقت سے آگے نکلی ہوئی نظم
—————————–
کرونا کے دنوں کی بات ہے ، ہم
گھروں میں قید تھے
اور گھر سے باہر کی فضا میں
ناگہانی موت کے امکانی خدشے
ہر گلی ہر موڑ پر
یوں دہشتیں پھیلا رہے تھے
کہ ہم اپنے گھروں میں بھی ڈرے سہمے ہوئے تھے
کہیں سے بھی کوئی اچھی خبر سننے کو ملتی تھی
توپیہم خوف سے بجھتی ہوئی آنکھوں میں
پھر سے زندگی لو دینے لگتی تھی
مگر جب دوسرے لمحے
جہاں بھر سے مسلسل موت کی خبریں کسی چینل سے
بریکنگ نیوز کی صورت
نظر کے سامنے تصویر ہوتی تھیں
تو یوں لگتا تھا
جیسے موت کے اس وحشیانہ وارکو ناکام کرنے کی
کوئی صورت نہیں ہے
بساطِ ارض پر ہر سوبھیانک منظروں کی لوح پر لکھی ہوئی
مجبور انسانوں کی لاکھوں داستانیں
زرد پتوں کی طرح بکھری پڑی تھیں
بہر سو بھوک تھی
بے چارگی تھی
وسوسے تھے
زمیں زادوں کی نظریں جانبِ افلاک اٹھتی تھیں
تو خالی لوٹ آتی تھیں
یوں لگتا تھا دعاؤں میں اثر باقی نہیں ہے
کہیں بھی کوئی چارہ گر نہیں ہے
مسلسل بے یقینی بڑھ رہی تھی
زمیں پر حکمرانی کا تصور اس قدر دھندلا گیا تھا
کہ ہر جابر حکمراں چاہتا تھا
کوئی دروازہ کھلے پردہ اٹھے
احساس کی بے جان چادر پر
کسی آواز کا عکسِ حسیں ابھرے
محبت سے بھرے لہجے میں کوئی بول اٹھے
اے مری مخلوق
میری ذات سے مایوس مت ہونا
کرونا کے دنوں کی بات ہے یہ
نئے انداز سے بندہ و آقا کا تعلق بن رہا تھا
تکبر ریزہ ریزہ ہو چکا تھا
سرِ تسلیم خم کرنے کی خو بڑھنے لگی تھی
سوچ میں تبدیلیاں آنے لگی تھیں

خدائے لم یزل نے خاک زادوں سے بلائیں ٹالنے
پھر سے انہیں احساس کی دولت عطا کرنے کی خاطر
کن کہا
اور دیکھتے ہی دیکھتے کھلتے ہوئے پھولوں کے عارض پر
حیاتِ نو کے اجلے نقش ابھرے
بے یقینی کے اندھیرے چھٹ گئے
پھر سے زمیں پر رنگ، خوشبو، سر ، محبت
میں گندھے جذبے
دلوں کی بار گہہ میں
حاضری دینے لگے
اور زندگی پھر سے حسیں خوابوں کو سینے سے لگا ئے
خاک زادوں میں تبسم بانٹتی، اٹھکیلیاں کرتی
نئے موسم کے استقبال کو نکلی
بہر سو پھول کھل اٹھے

یوسف خالد
قطعہ
ننھے بچوں کی اداؤں سے محبت ہے اسے
بے وفائی ان سے کر سکتی نہیں ہے زندگی
خوف کے ماحول سے باہر نکلنا ہے ہمیں
اجتماعی موت مر سکتی نہیں ہے زندگی
—-
قطعہ
روک مت میرے قلم کو اے ہوائے بے حسی
خوش دلی سے زندگی میں رنگ بھرنے دے مجھے
اس خزاں دیدہ چمن کی خوش نمائی کے لیے
سوچ میں شادابیاں تقسیم کرنے دےمجھے
—–
قطعہ
ایک ایسی کتاب ہم کو ملی
جو ابھی شاملِ نصاب نہیں
باعثِ فکر و آگہی بھی ہے
یہ کرونا فقط عذاب نہیں
—–
نظم —- معالج
چیختی،روتی۔سسکتی زندگی

درد و غم کا ایک بحر بے کراں
اور اس عالم میں
اک کھلتا ہوا چہرہ ترا
ایسے
جیسے بے اماں تاریک راتوں میں
اجالے کی کرن
یا
کسی خاموش جنگل میں صدائے دلنواز

Comments are closed.