موت پھیلا کے خدا یاد دلایا سب کو

(ایم اکرام الحق)
اک وبا نے ہے اس طور رلایا سب کو موت پھیلا کے خدا یاد دلایا سب کو موت کا جال یوں بچھایا ملکوں ملکوں اک قیامت کا سماں آج دکھایا سب کو ساری دنیا کے سماجوں کو لپیٹا اس نے درس عبرت یہاں ایسا ہے سکھایا سب کو سب کو لاچار بنا کے ہے بٹھایا گھر گھر ایسے بچھڑے ہوئے اپنوں سے ملایا سب کو جان لیوا سی وبا نے یوں گلی بازاروں میں موت کا رقص دکھا کے ہے ڈرایا سب کو جس کے سازوں سے فضاؤں میں ہے ماتم رقصاں ایسا دلگیر �

Comments are closed.