کوئی الجھن نہ تعفن نہ بلا ہے لوگو

(نیر رانی شفق)

غزل
کوئی الجھن نہ تعفن نہ بلا ہے لوگو
آزمائش کی گھڑی ہےکہ وبا ہے لوگو

نہ ہی سجدوں میں تعطل نہ مناجات ہیں کم
وہی رحمن سنے گا جو خفا ہے لوگو

زیست موقوف ہے خلوت پہ، تو کچھ صبر کریں
بس قرنطینہ میں سانسوں کی بقا ہے لوگو

عارضی فاصلے رشتوں میں ہیں، دوری ہے روا
دل کی دھڑکن سے مگر کون جدا ہے لوگو

خدمت خلق کے دیکھے ہیں ہزاروں منظر
اب بھی سینوں میں تڑپ اور وفا ہے لوگو

تم اشاروں سے یہ پیغام فضاؤں میں لکھو
باد صرصر میں نہاں موج صبا ہے لوگو

یہ عبادات پہ پہرے یہ اسیری کی فضا
خوشبوئیں قید سہی وقت دعا ہے لوگو

مخزن فکر سے کب اس کی دوا ڈھونڈو گے
باب تحقیق تو ہر وقت کھلا ہے لوگو

ابھی قدغن ہے بہاروں پہ شفق پھول کہاں
نکہت گل ابھی بر دوش ہوا ہے لوگو

Comments are closed.