تار و پُود

(شکیل کالاباغوی)

اے غافل !!خاک کے پتلے سُن!!
اے غافل ‘خاک کے پُتلے ‘سُن!!
ذیشان ہے تُو سب خلقت میں
پہچان تو اپنی ذات کے گُن!!!!
زیبائشِ عالمِ فانی کا یزداں نے کیا مختار تجھے
تصویرِ جہاں کے رنگ سبھی
رکھے ہیں تمہاری آنکھوں میں
جو رنگ تمہاری آنکھوں کی ٹکسال میں ڈھل کر نکلے گا
وہی رنگ پہن لے گی دنیا
اُسی رنگ کا سکہ چمکے گا
ترے قلب و نظر کو سونپے گئے
کئی عشق و محبت کے جوہر
کئی مہر و وفا کے لعل و گہر
کئی رنگ شفق کی کرنوں کے تری پلکوں کے سنگھاسن پر
ترے پھول لبوں کو مہکایا
تہذیب گھلی شیرینی سے
تجھے رشتوں کی کوملتا کا احساس دیا
تجھے چادر، چار دیواری کا احساس دیا
افسوس ‘ مگر !! اے خاک کے پتلے
حیف ہے !! صد ہا حیف ہے!! تجھ پر
رب رحمٰن کو چھوڑ کے تُو نے کیوں شیطان کا ساتھ دیا؟؟
کیوں رب اپنا ناراض کِیا؟؟
اے غافل! خاک کے پتلے سُن!!
شہہ رگ سے قریں رحمٰن کی سُن!!
تیری اک توبہ ہی کافی ہے
تیری اک توبہ پہ رحمت کے در لاکھوں کھولنے والا ہے
تجھے اجر میں تولنے والا ہے!!
اے غافل!! دیر نہ کر آجا
بھلا رب کب بھولنے والا ہے!!!!
اندھیر نہیں ہے رب کے یہاں
کچھ دیر ضرور ہے ‘ اس کے بعد
ہر سُو اک نور کا ہالہ ہے
تیرے شش جہات اجالا ہے!!!

Comments are closed.