ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے

(پروفیسر اکرم ناصر)
اذانوں کی صدائیں آرہی ہیں
ابھی ہم کو پکارا جا رہا ہے
ابھی بھی وقت ہے
سانسوں کی ڈوری ٹوٹنے سے
ایک پل پہلے تلک
توبہ کا دروازہ کھلا ہے

اگر چہ موت کا اب رقص
ہر جانب دکھائی دے رہا ہے
اگر چہ موت کی اب چاپ
ہر جانب سنائی دے رہی ہے
مگر مایوس مت ہونا
ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے

اندھیرا ہے
مگر ہم پیٹ میں مچھلی کے زندہ ہیں
عذاب آنے کو ہے
لیکن یہ ٹل سکتا ہے
پہلے بھی ٹلا تھا

اگر چہ قید ہیں گھر میں
اگر چہ خوف کی بارش میں نہلائے ہوئے ہیں
گلی کوچے کے سناٹے سے اکتائے ہوئے ہیں
بہت مایوس ہیں اور سخت گھبرائے ہوئے ہیں
اگر چہ موت کے گلیوں میں جھکڑ چل رہے ہیں
گھروں میں قید ہیں اور ہاتھ بیٹھے مل رہے ہیں

مگر سوچو
یہ کیا کم ہے
ابھی ہم موت کی وادی میں زندہ ہیں

گناہوں کی ہے گو فہرست لمبی
ندامت کا بس اک آنسو بہت ہے
اگر توبہ کی ہو توفیق ہم کو
خلوص دل سے بس توبہ بہت ہے

اذانوں کی صدائیں آ رہی ہیں
ابھی ہم کو پکارا جا رہا ہے
ابھی مایوس مت ہونا
ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے

Comments are closed.