کس سے پیار محبت کرنا کس سے ملنے جانا اب

(بشارت تنشیط)

کس سے پیار محبت کرنا کس سے ملنے جانا اب
آدم زاد لرز جاتے ہیں ڈر ہے ہاتھ ملانا اب
خواب کوئی تھا ہم نے دیکھا جس کی یہ تعبیر ہوئی
دیر سہی پر جان گئے ہم سارا کھیل رچانا اب
پیار نگر کی مٹیاریں بھی اوجھل اوجھل رہتی ہیں
پنوں دیکھ کہ بھول چکی ہے سسی ہاتھ ہلانا اب
جان سے پیارے بیلی اپنے تنہا تنہا پھرتے ہیں
عیب ہوئی ہے شعر گوئی بھی جرم ہے شعر سنانا اب
مسجد، مندر، گرجا والے سارے اب ناشاد ہوئے
جان سے بڑھ کر مشکل ٹھہرا یہ ایمان بچانا اب
سارے ملا، فادر، پنڈت پچھتائے اکتائے سے
بھول چکے ہیں ساری مستی یاد نہیں بھٹکانا اب
چھوڑ بشارت دنیا والے اور خفا ہوجائیں گے
ہے مضمون پرانا بھائی، چھوڑ اسے دھرانا اب

Comments are closed.