ہم گوشت کے اِنسان

(محمد شفیق انصاری)

اِتنا ہے یقیں ہم ہیں بہت غیر یقینی
اُڑتے ہیں ہواؤں میں مگر ہیں تو زمینی
اُتری جو وباء اُس نے یہ آگاہ کِیا ہے
ہم گوشت کے اِنساں ہیں کہ آلاتِ مشینی
ہم وصل کےلمحات کےخواہاں ہی نہیں ہیں
ٹھہری جو حرام اِس لیے پھر کاہے کو پینی
کام آئے کسی کے تو وہ تصویر بنا لی
اِتنی تو بقایا ہے ابھی غیرتِ دِینی
حیرت سے شفیقؔ اپنے معالج کو تکے ہے
ہم دَر بدروں کے لیے کیا گوشہ نشینی

Comments are closed.