رویہ تیرا، ابھی وُہی ہے

(عاصم بخاری)
نظم

سماج میرا
اناج میرا
اجارہ داری
ہے کیوں تمہاری؟
کہ مہنگے داموں
ذخیرہ کرکے
ہرایک نعمت
کو بیچتے ہو
کہ آزماٸش
کی اِس گھڑی میں
مذاق بھی تم
اُڑا رہے ھو
علیم ھوں میں
خبیر ہوں میں
میں مکر سارے
فریب تیرے
لفظ کن سے
سمیٹ لوں گا
گنہ میں کیسے
معاف کردوں
وبا سے عاصم
فضا میں کیسے
یہ پاک کر دوں
رویہ تیرا،ابھی وُہی ہے

Comments are closed.