پل پل کی نٸی بات کا وجود میں آنا

(حمیرہ نور)

دنیا کے
اس کرہ ارض پر
میری ضدی ھٹہیلی دھرتی پر
سال بیس بیس کی
نٸی اور انوکھی
تاریخ لکھی جا رہی ھے۔۔۔۔۔۔
وبا کی، شفا کی،
خوف کی۔ امید کی
تنہایوں کی، قید کی،
ذمیواریوں کی ،لاپرواہیوں کی،
احساسات کی، بیحسی کی،
انسانوں کی ، ایمانوں کی،
حقیقتوں کی، ضرورتوں کی،
اداس نم آنکہوں کی،
کپکپاتے لرزتے ہاتہوں کی،
خالی کھوکھلی باتوں کی،
واضع خوبصورت اعمالوں کی،
بیکار نکمی حواص باختہ
حکومتوں کی،
بیدار بھادر حکمرانوں کی،
سامنے مرتے جیون کی،
پیچھے ھنستے اموات کی،
چھوٹے سے ٹکڑے کفن کی،
صرف مٹی اور دفن کی،
کسی کو پیار سے چھونے کی،
چھونے کے بعد بچنے کی،
بڑہتی ھوٸی نفرت کی،
مسکراتی محبت مرنے کی،
دکھ میں تکلیف دینے کی،
پھر آپ ھی آپ سنبھلنے کی،
دنیا میں دنیاداری کی،
امدادوں کی خیراتوں کی،
کوڑی کوڑی زکواتوں کی،
نت نٸی تصویروں کی،
فیس بک پے لٹیروں کی،
غریب مسکین غربت کی،
اس پر تذلیل توھین کی،
بیچاروں اور لاچاروں کی،
بے بس بنے آثاروں کی،
مسکینوں کے لٸے افواھوں کی،
سخی سراپا دلاسوں کی،
سنسان ویران رستوں کی،
فرض شناس افراد کی،
رحیم رحمدل سوچوں کی،
نیک خیال ذھنوں کی،
اور
پل پل نٸی بات کا وجود میں آنا
یقین سے کُھل کر لکھنا
اس مرتے بستے جھان میں
نیک بھلاٸی میں جیٸے گا
برا براٸی میں مرے گا۔

Comments are closed.