خوابوں کے جہاں کی کہانی

(انیلا تبسم)

خوابوں کے جہاں کی کہانی
سحر میں گم ہو چکی جوانی

صحرا پہاڑ پربت ہواٶں کو چھوتی ہوٸ
مہک خوشبوٶں میں جھومتی گاتی ہوٸ
مسکراہٹیں بکھیرتی ہوٸ
شباب کی بد حواسی ہوش اڑاتی ہوٸ
شباب کی شوخٸ و ظرافت عمر کے تقاضے پوری کرتی ہوٸ
وہ باتیں ماضی کے جھروکوں کی طرح یاد آتی ہیں
حال میں آنکھوں کو نم کر جاتی ہیں
یہ خوابوں کا جہاں بہت ہی خوبصورت تخیل کی بلند پروازی
ہواٶں میں اڑنا آزاد پنچھی کی طرح
زیرِ لب تبسم لاتی ہوٸ
یہ خوابوں کا جہاں ہے ، حقیقت سے تو بہت دور لیکن!
بہت حسین اور خوبصورت
یہ خوابوں کا جہاں تعبیر کرنا تو حاصل ہے لیکن!
حاصل کہ بعد لا حاصل ہے زندگی

Comments are closed.