حرفِ دُعا

( ذوالفقارعلی خان )

خون روتا ہُوا دِل حرفِ دُعا لایا ہُوں
اے میرے اُجڑے چمن دیکھ میں کیا لایا ہُوں

حرف دو چار تسلی کے مناسب بھی نہیں
جتنے آنسو تھے تیرے غم میں بہا لایا ہُوں

میرا اِخلاص میرے سچ کی گواہی دیگا
جو کبھی مر نہ سکے ایسی وفا لایا ہُوں

سانحے نے یہ میرے کان میں سرگوشی کی
میں تیرے دیس کے سوتوں کو جگا لایا ہُوں

میں تو شاعر بھی نہیں ہُوں کہ تیرا نَوحہ لکھوں
جو میرے دِل سے ہے اُبھری وہ صدا لایا ہُوں

سانحہ گر چہ قیامت سے علؔی ہے بڑھ کر
مگر میں حوصلہ اُس سے بھی سوا لایا ہُوں

Comments are closed.