یہ سیاہ رات دعاوں سے اجالی جائے

(انور جمال فاروقی)

چند اشعار کروونا کے تناظر میں

یہ سیاہ رات دعاوں سے اجالی جائے
بچ نکلنے کی کوئی راہ نکالی جائے

اے سیہ شب کے ندیمو کوئی تدبیر کرو
وار جو بھی میرے دشمن کاہے وہ خالی جائے

مرگ انبوہ کا ماتم ہی کئیے جاو گے
زندگی موت کی گود میں نا پالی جائے

مل کے سب ہاتھ اٹھائیں بھی،دعائیں مانگیں
صبح نو پھوٹ بہے، رات یہ کالی جائے

اپنی عادت جو بنا لیں اسے سارے انور
بات کوئی بھی نہ مظلوم کی ٹالی جائے

Comments are closed.