خواب آنکھوں میں سجاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

(عصمت شہناز)

غزل
خواب آنکھوں میں سجاتے ہوئے ڈر لگتا ہے
نیند کا شہر بساتے ہُوئے ڈر لگتا ہے

خوشنما چہروں کے پیچھے ہے حقیقت ایسی
لب پہ مسکان سجاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

کسی ویران جزیرے کا مکیں ہو جیسے دل کا احوال سناتے ہوئے ڈر لگتا ہے

جانے کیا خوف سمٹ آیا ہے سبھی چہروں پر
آئینہ خود کو دکھاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

وقتی چاہت ہے یہاں ،اغراض کا یارانہ ہے
اب نئے دوست بناتے ہوئے ڈر لگتا ہے

در و دیوار پہ سایہ ہے دشمن جاں کا
اب دیا گھر میں جلاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

Comments are closed.