اک ہوا ایسی چلی سب گھر کے اندر ہو گئے

(عظمیٰ جبین فلکٙ)

کورونائی غزل
اک ہوا ایسی چلی سب گھر کے اندر ہو گئے
خاک آلودہ زمینی ماہ و اختر ہو گئے

روزنِ زندان میں آئی جو راشن کی خبر
توڑ کر سارے ہی پہرے سب ہی باہر ہو گئے

ایک گھنٹا ماسک کے بن کر لیں جو حضرت سفر
جان لو تم وہ مقدّر کے سکندر ہو گئے

لاک ڈاوْن کی وجہ سے بڑھ گئیں ہیں رنجشیں
گھر میں تھے حالات جو بہتر وہ ابتر ہو گئے

چھینکنا اب تو غضب ہے جھانکنا باہر وبال
کیا ہے انساں کیا یے مرغا سب برابر ہو گئے

Comments are closed.