ہار جائیں ہمتیں کیوں، حوصلوں کی فکر کر

(شمسہ نجم)

ہار جائیں ہمتیں کیوں، حوصلوں کی فکر کر
زندگی سے دور جاتے راستوں کی فکر کر

کام آ تو دوسروں کے، دیکھ اپنے اردگرد
روزی روٹی کو ترستے بے کسوں کی فکر کر

اب ملانا ہاتھ مشکل اور گلے ملنا محال
ان دنوں جو بڑھ گئے ان فاصلوں کی فکر کر

ایسی ان ہونی ہوئی اب چل پڑی بادِ سموم
فکر کر تو اپنے رشتوں، چاہتوں کی فکر کر

اس بری ظالم گھڑی میں دوستی کی کر سبیل
جو دلوں کو جوڑ دیں کچھ واسطوں کی فکر کر

Comments are closed.