انصاف کا وعدہ کیا ھے

(حمیرہ نور)

دنیا دیکھ رھی ھے کہ
چاٸنا نقصان سے
فاٸدے کی طرف آرھا ھے
بہت کچھ
لٹانے کے باوجود
ایک مسیحا بن کر
دنیا کی بے لوث
خدمت سے
مالا مال ھو رھا ھے
اور اپنے نام سے،کام سے
نٸی تاریخ لکھ رھا ھے۔

اٹلی لاپرواھیوں
اور بے احتیاطی کے بعد
زمین پر سب کچھ
کھوجانے بعد
آسمان کی طرف
التجاٸی پرنم نگاھوں کے ساتھ
کسی معجزی کا
انتظار کر رھا ھے۔

امریکا اس وقت
سپر پاور کا گھمنڈ لے کر
دنیا کے نقشے میں
کھڑا تو ھے مگر
بےبس۔ لاچار اور ناکام
اسے پتہ ھے کہ
اب یہ
فوجی طاقت۔ جدید ھتہیار۔
بم بارود۔ ایٸٹمی قوت۔ جنگیں۔ جنگی جھاز۔ ٹینکس۔ ڈروں میزاٸل۔ پیٹرول کے کنویں۔ تیل کی بادشاھت۔ دھمکیاں۔ تعلیم بلکہ اعلیٰ تعلیم
اور تمام تر ترقی
اس معمولی چھوٹے سے
کرونا واٸرس کے آگے
کوٸی حیثیت نہیں رکھتے
اور یہ کرونا واٸرس
اللهؓ کی بادشاھت آگے
کوٸی معنیٰ نہیں رکھتا
مگر قدرت اپنا
حساب رکھتی ھے
اور وقت آنے پر
حساب کتاب کرتی ھے
اب شاید
یہ بیس بیس کا سال
تیرے لٸے امتحان کا سال ھے
اے امریکا
اب تو تلاوت بھی کر
آذان بھی سن
اسکارف کی بھی اجازت دے
بھلے اسلام کے حق میں بات کر
مسلمانوں کو عزت بھی دے
نماز بھی پڑھ
اپنی زبان پر کلما بھی لا
پھر بھی تمہیں
اپنے ظلموں کی سزا
ضرور ملے گی
کیوں کہ
قدرت نے گھمنڈ توڑنے
اور مظلوموں کے ساتھ
انصاف کا وعدہ کیا ھے۔

Comments are closed.