مؤرخ جب اٹھا ئے گا قلم تاریخ لکھنے کو

( ڈاکٹر صغیر اسلم )

کرونا سے سے لڑتے ڈاکٹرزاور پیرا میڈکس جانبازوں کے نام

مؤرخ جب اٹھا ئے گا قلم تاریخ لکھنے کو

تو لکھے گا وہ اک ایسا زمانہ بھی

کہ جب ارض و سما، جنگل بیاباں ، بحرو بر میں اک قیامت تھی

وبائے جان لیواہر جگہ پنجے جمائے خوف و دہشت بانٹنے نکلی

تو کچھ ایسے مناظر بھی نگاہوں سے گذرتے تھے

جہاں انسان انسانوں سے

بلکہ جان سے بڑھ کر عزیزوں سے گریزاں تھے

جہاں اس بات کی کوشش مسلسل تھی

کہ تنہائ یقینی ہو

سماجی رابطے مفقود ہو جائیں

قرابت ایسے لوگوں سے تو گویا زہرِقاتل تھی

جنہیں آثاروامکاناتِ مرضِ جان لیوا سے تعلق تھا

جہاں اپنے ہی اپنوں کو سزائے قیدِ تنہائ سناتے تھے

تو ایسے میں

میانِ کارزارِ خوف و دہشت

ایک وہ طبقہ بھی زندہ تھا

جو امکاناتِ مرضِ جان لیوا سے تعلق رکھنے والے

خوف کے مارے مریضوں کے قریب آتا

بلائے جان لیوا سے چھڑانے کی سعی کرتا

بہ ایں عالم کہ ہتھیاروں سے خالی تھا

اسے کوئ مکمل ڈھال بھی ملنے نہ پاتی تھی

مگر ڈٹ کر کھڑا ہتا

یہاں تک کہ بسا اوقات اپنی جان دے دیتا

مگر انسانیت کی آس کو مرنے نہ دیتا تھا

سلام اُن سرفروشوں کےگروہِ جانبازاں پر

مسیحا بن کے جو اس دور میں امید بنتے

اور انسانوں کو صبحِ نو کے رستوں کی خبر دیتے

بلا سے وہ اسی کوشش میں اپنی جاں گنوا دیتے

سلام اُن سرفروشوں پر

گروہِ جانبازاں پر

Comments are closed.