تمام شہر ہے اب کے ہوا کے ہاتھوں میں

(سید مرتضی حسن شیرازی)

غزل

تمام شہر ہے اب کے ہوا کے ہاتھوں میں
چراغ رکھے ہوۓ ہیں جلا کے ہاتھوں میں

وفا تو حضرتِ عباس کی علامت ہے
عَلم نہ دینا کسی بے وفا کے ہاتھوں میں

مرے خدا تری رحمت پہ حرف آۓ گا
جو شہر مرتے گئے یوں وبا کے ہاتھوں میں

یہ وقت جیسے کوئی منجمد ستارہ ہو
یہ کس طرح کی گھڑی ہے سزا کے ہاتھوں میں

اب اس سے بڑھ کے کوئی احتجاج کیا ہوگا
مروں گا میں تو مروں گا دعا کے ہاتھوں میں

طویل عمر کی ان کے لیے دعائیں ہیں
جو دوسروں کے لیے ہیں قضا کے ہاتھوں میں

Comments are closed.