مری وحشت کی دنیا میں قیامت کا سماں ہے

(محمد منذر رضا)

مری وحشت کی دنیا میں قیامت کا سماں ہے
خموشی چیختی پھرتی ہے دل محوِ فغاں ہے
غمِ دنیا ، غمِ عقبی ، گئے وقتوں کی باتیں
بس اب میری جبیں ہے اور تیرا آستاں ہے
ہماری زیست کے بارے میں کچھ مت پوچھیے گا
یہ تنہائی ، مصیبت اور الم کی داستاں ہے
کسی روشن سحر کے نور و ضو کو یاد کر کے
شبِ تیرہ میں قلبِ مضطرب گریہ کناں ہے
درونِ خواب و بیداری تجھے ہی ڈھونڈتے ہیں
عجب تنہائی ہے اے مونسِ جاں تو کہاں ہے
نظر میں گھومتے ہیں بس گلابی گال تیرے
ہمارے سامنے جامِ شرابِ ارغواں ہے
در و دیوار بھی عفریت جیسے بن گئے ہیں
درونِ کنجِ تنہائی بھی منذر بے اماں ہے

Comments are closed.