خیال

(آسناتھ کنول)
نظم

ہم ایک خیال کے دریا کنارے ملے تھے
جہاں احساس کے درختوں پر
اُداسی کے پتے
کسی گہری کھائی میں گرتے جاتے تھے
دل میں وسوسوں کا راج ہے
آئینوں میں بنتے بگڑتے عکس
اپنی مکروہ شکلوں پر دردکی سیاہی ملتے ہیں
ہم جو کانٹوں بھرے راستوں پر
اپنے لہو سے نقش کاڑھتے
اپنی حیات کی رس بیری سے
قطرہ قطرہ ٹپکتے ہیں
درختوں پر چڑیلوں کا راج ہے
اُن کی مکروہ چیخیں
جنگل کے سناٹوں کو چیرتیں ہیں
بلائوں نے شہر کے گرد حصار کھینچا ہے
موت نے سفید لباس پہنا
اور دھوکا دینے چل نکلی
اَن گنت وجود بے جان ہوئے
چلو ان کو گہری کھائی میں ڈال دیتے ہیں
معصوم چہرے زردی مائل دِکھنے لگے
پتھر آنکھوں میں جدائی رقص کرتی ہے

بھنچے ہوئے ہونٹوں میں نوحے قید ہیں
کوئی حرفِ تسلی
آئینے میں بند تھا
وہ ٹوٹ گیا
سسکیاں بھرتے لفظ
اپنی ہونے پر شرمندہ ہیں
محبت کے مزار پر بنی تصویریں
آنے والی نسلوں کے لئے سبق ہیں
جب ہم نے کسی کے ہجر میں رقص کرتے کرتے
دم توڑا تھا
خیال نے جھرجھری لی
جب زندگی نے انگڑائی لی
تو اس کے زندہ مساموں سے موت بہہ نکلی
ہوائیں مسموم بھی ہیں مغموم بھی
سمندروں کی حد باندھنے والے
ہواکو مٹھی میں بھر
اور پرندوں کا شور
ہماری سڑکوں پر اُنڈیل دے

Comments are closed.