جو ہو چکا ہے بتائو کہ یہ سبب کیا ہے

(آسناتھ کنول)

غزل
جو ہو چکا ہے بتائو کہ یہ سبب کیا ہے
سوائے موت کے ان منظروں میں اب کیا ہے

اسی کو کاٹ رہے ہیں جو خود لگائے تھے
سو ان خرابوں میں ایسا بھلا عجب کیا ہے

یہ آفتیں بھی زمانے نے خود ہی پید ا کیں
خدا کو کوسنے والو لہو لعب کیا ہے

نئی بلائوں نے دنیا بدل کے رکھ دی ہے
علاج دوری ہے تو اس میں اب کے تب کیا ہے

ہر ایک لمحہ کہ اٹکا پڑ ا ہے سانسوں میں
تمہیں بتائو کہ یہ دن ہے کیا یہ شب کیا ہے

کنول ؔ رفاقتوں سے فرقتیں ہی بہتر ہیں
علاج اس کے علاوہ بتائو اب کیا ہے ٓٓسناتھ کنولؔ

Comments are closed.