گلشن سُونا سُونا ہے

(ڈاکٹر محمد اقبال صمصام)

گلشن سُونا سُونا ہے
اجڑا کُونا کُونا ہے
بستی ساری جل اُٹھی
دل بھی بُھونا بُھونا ہے
شیخ تجھے کیا پہچانوں
تُو بھی مُونا مُونا ہے
بیج بہائے بارش نے
ہم نے بُونا بُونا ہے
بچّے اور جواں ناخوش
بوڑھا نُونا نُونا ہے
سیر نہیں ہوتا کوئی
پوٹا اُونا اُونا ہے
کورونا اک آفت ہے
ہر غم دُونا دُونا ہے
ہر بندہ ہے افسردہ
ہر سُو رُونا رُونا ہے
کورونا کورونا ہے
گویا ٹُونا ٹُونا ہے
زردہ بھی صمصامؔ بہت
لگتا لُونا لُونا ہے

—–

بھاگ رہے ہیں ہنگاموں سے
ہنگاموں میں جو رہتے تھے
تنہائیوں میں جا پھینکا ہے
اب تو کورونا کے ڈر نے
اللہ ہی سے ڈرنے والے
کب ڈرتے ہیں کورونا سے
چاند ستارے ماند پڑے ہیں
زرد پڑا سورج بھی ڈر کے
توبہ استغفار کرو سب
اور مدد مانگو اللہ سے
اللہ ہی سے ڈرتے رہنا
دامن تھامو اُس کا بڑھ کے
ہر چہرہ ہے اُترا اُترا
دل بھی پژ مردہ ہے غم سے
کورونا کو مار بھگاؤ
عزم و ہمت سے اب لڑکے
جب بھی وقت کڑا آئے تو
نیکی کر صمصامؔ سبھی سے
—————
”کورونا سے لڑنا ہے“
کام یہی اب کرنا ہے
خدمت سب کی کرنی ہے
زخموں کو بھی بھرنا ہے
کام سبھی کے آنا ہے
سانجھا جینا مرنا ہے
کہہ کر اللہُ اکبر
چوٹی کو سر کرنا ہے
جرثومے کورونا کے
آخر ان کو مرنا ہے
لے کر اللہ ہی کا نام
طُغیانی میں ترنا ہے
لَوٹ بہاریں آئیں گی
اور خزاں نے سرنا ہے
اب تو ہر لمحہ صمصامؔ
شُکر خدا کا کرنا ہے

————-
لڑنا ہے کورونا سے اب سب نے مل کر میری جان
پاکستان رہے گا زندہ، پختہ ہے میرا ایمان
وقت برا جب آتا ہے، دشمن سے مل کر لڑتے ہیں
کورونا کیا جانے، یہ ہے ہر پاکستانی کی شان
ساری دنیا میں پھیلا کورونا بن کر ایک وبا
صدقہ دو، خیرات کرو ہر مسلم کی ہے یہ پہچان
جب بھی ایسا موقع آئے اللہ ہی کو یاد کرو
دور رہو ان بیماروں سے، پاک نبیؐ کا ہے فرمان
چھوڑو تم ہر ایک گناہ جلدی سے سب توبہ کرلو
حکم خدا کا ہی مانو صمصامؔ پڑھو ہر پل قرآن
—–

ہر سو پھیلا کورونا
کورونا ہے ایک وبا
ساری دنیا روتی ہے
دنیا میں کہرام مچا
قہر خداوندی ہے یہ
چھوڑ برائی تو رُک جا
صدق دل سے توبہ کر
راہ پر آ تُو اے بد راہ
اللہ تیرا حافظ ہے
مایُوسی ہے سخت گناہ
مانگ دعائیں اللہ سے
اللہ ہی سے مانگ پناہ
وقت مصیبت صدقہ سے
ٹلتی ہے ہر ایک بلا
پاس ترے جو کچھ بھی ہے
ہے ربّ کی صمصامؔ عطا
————————-
دُش کرما ہے دُش کرما تُو
کورونا سے کچھ شرما تُو
اللہ کو تُوبھول چکا ہے
آ اللہ کے در پر آ تُو
کورونا سے لڑ ہمّت کر
جرثوموں سے نہ گھبرا تُو
تُوتو ہے مسجودِملائک
اللہُ اکبر کہتا جا تُو
ڈر اللہ کے قہر غضب سے
توبہ کر لے نہ اِترا تُو
غُربت کے مارے لوگوں سے
نیکی بھی کر اور بھلا تُو
رکھ کر پھاہا زخمی دل پر
لے ہر پل صمصامؔ دعا تُو
—–
اک دُوجے سے سب بیزار
دیکھ قیامت کے آثار
اپنے بھی ہیں دُکھیارے
اور پریشاں ہیں اغیار
کرنی کی اب تُو بھی بھر
دیکھ تماشا اپنا یار
جھانک گریباں میں اپنے
چھوڑ گناہوں کو یک بار
اب بھی وقت نہیں گزرا
کرلے توبہ استغفار
ہر سُو ہُو کا عالم ہے
گلیاں ساری تیرہ تار
اللہ کے در پر جُھک جا
لگ جائے گی کشتی پار
کورونا ہے ایک عذاب
غفلت سے ہوجا بیدار
قُربِ قیامت ہے صمصامؔ
کورونا کی ہے یلغار

—–

Comments are closed.