احتیاط واجب ہے احتیاط کرنی ہے

(ممتاز فاطمہ کاظمی)

حتیاط واجب ہے احتیاط کرنی ہے
بات یہ بقا کی ہے عقل میں یہ بھرنی ہے

جنگ یہ عجب سی ہے بات بس سمجھ کی ہے
اپنے گھر میں رہنا ہے سب نے جنگ لڑنی ہے

گھر میں ہی بنانا ہے مسجد اور عزا خانہ
وقت کا تقاضا ہے رسم یوں بھی چلنی ہے

ساتھ سب نے دینا ہے فوج اور حکومت کا
متحد رہیں گے گر تو وبا یہ ٹلنی ہے

سب کا دھیان رکھنا ہے یہ بھی کام کرنا ہے
نیم شب میں اٹھنا ہے التجا بھی کرنی ہے

التجا، دعا ممتاز اور کوششیں سب کی
رنگ جلد لائیں گی یہ نوید ملنی ہے

Comments are closed.