زندگی رُک گئی

(خالدمصطفی)

ہر طرف بھیڑ تھی
جا بہ جا شور تھا
ہر نفس برق رفتاری سے
اپنی منزل کی جانب رواں تھا مگر
ایک نادیدہ جرثومے نے ایسی یلغار کی
دھیمی یوں چلنے والوں کی رفتار کی
زندگی رُک گئی
منزلوں کی طرف بڑھنے والے قدم سست پڑنے لگے
ایسی آندھی چلی کہ تناور شجر تک اُکھڑنے لگے
موت رقصاں ہے کوچہ وبازار میں
شہر سنسان ہیں
گاؤں ویران ہیں
مسجدیں بے صدا
مدرسے بے نوا
گھر کے باسی گھروں میں ہیں بے آسرا
ہر طرف خامشی
ہر کہیں بے بسی
میرے مولا یہ کیاماجرا ہو گیا
توُ خفا ہو گیا؟
کون ہے تیرے بندوں کا تیرے سوا
تو ہے مشکل کشا
المدد ،اے خدا
المدد، اے خدا

Comments are closed.