ہا ر جائے گا کرو نا ، پھول پھر کھِل جا ئیں گے

(شگفتہ شفیق)

ایک بلائے آ سما نی سب جہا ں پہ چھا گئی
چین سے ہو کے شروع اب وہ یہا ں تک آ گئی

اس بلائے ناگہا نی کو ڈرانا ہے ہمیں
اپنی ہمت حو صلہ اب آزمانا ہے ہمیں

ویسے تو گھر میں ہمیں یو ں بیٹھنا آ تا نہیں
گھو منا لگتا ہے اچھا ، گھر تو کچھ بھا تا نہیں

لیکن پیارے دوستو ! یہ بات میری جان لو
عزم و ہمت حو صلے کی ہے ضرورت جان لو

کر لو کچھ ا حساس اپنا ، اب خدا کا نا م لو
گڑ گڑا و ٔ ، روتے جاؤ ، رب کا دامن تھام لو

یہ کرونا چیز کیا ہے دل میں جب ہم ٹھان لیں
فاصلہ رکھیں سما جی ، احتیا طیں مان لیں

ہا ر جائے گا کرو نا پھو ل پھر کھِل جائیں گے
یہ جہا ں ہو گا شگفتہ دل سے دل مل جائیں گے

Comments are closed.