اعتقادی تعصب اور وبائیں

(ڈاکٹر جابر حسین)

ہواؤں کا، وباؤں کا، دواؤں کا
کوئی مذھب،کوئی مسلک کوئی فرقہ نہیں ہوتا
ہوا کی زد میں آنے والے سارے دیپ
بلا تفریق بجھتے ہیں
وبا جس جا پہنچتی ہے
وہاں کے پیر و زن،دیروحرم ،فرقہ عقیدہ،نسل و رنگ پوچھے بنا اپنے شکم کو سیر کرتی ہے
ہوا کو بیر ہے تو بس چراغوں سے،پرائے ہوں کہ اپنےہوں
وبا کو خاکداں میں میل جول اور رنگ و بوئے زیست ہی سے دشمنی ہے بس
دواؤں کا اثر پابند ملک و مذھب و فرقہ نہیں ہوتا
ہواؤں کا، وباؤں کا، دواؤں کا
کوئی مذھب،کوئی مسلک کوئی فرقہ نہیں ہوتا
عقیدے کا تعصب اپنی جا پر اک وبائے لا دوا ہے
جس کی زد میں منبرو محراب کی،دیروحرم کی اور کلیسا کی ہوائیں اور سوچیں آچکی ہیں
ہوائیں مسلکی بن کر، وبائیں مذھبی بن کر
دوائیں فرقہ وارانہ علائم اور سیاسی آدرش کے ساتھ بکتی ہیں۔
تعصب بھی تجارت تیز تر کرنے کا اک گر ہے،
وبا ہے اور وبائے لادوا کے دور میں
انسانیت اور نوع انسانی دگرگوں ہیں

Comments are closed.