بہار،خوف اور امید کے درمیاں

(کامران امین)

بہار رت میں
مرے چمن میں
یہ کیسے موسم اتر رہے ہیں
کہ شاخچوں سے تمام کلیاں
وہ سارے پتے جو شجرِ ہستی سنوارتے تھے
وہ کٹ رہے ہیں
سبھی پہ خوفِ قضا ہے طاری
گلاب چہرے اجڑ رہے ہیں
وہ جن سے ملتے تو ایسے ملتے
کہ روح چاہت بھی جھوم اٹھتی
وہ دور سے اب گزر رہے ہیں
بشر بشر ہی سے ڈر رہے ہیں

کڑا سہی آج وقت لیکن
کبھی رکا ہے نہ اب رکے گا
یہ پھول پھر سے مہک اٹھیں گے
بہار، موسم کا راج ہوگا
یہ قافلہ ہے یہ پھر چلے گا
یہ وحشتوں کے مہیب ساے نہیں رہیں گے
یہ شہر، قصبے جو آج اجڑے ہیں
پھر بسیں گے
جو چاند چہرے بجھے بجھے ہیں
یہ مسکرائیں گے کھل اٹھیں گے
امید باقی ہے، آسرا ہے
ابھی تو جگنو کی روشنی ہے
ابھی تو روشن کوئی دِیا ہے
پیام دیتا ہے صبحِ نو کا
ابھی وہ اعلان کررہا ہے
جہاں میں پھر سے بہار ہوگی
جہاں میں پھر سے بہارہوگی

Comments are closed.