اک وبا کی نذر ہو گئی زندگی دیکھ لو

(محمد اقبال خان)

اک وبا کی نذر ہو گئی زندگی دیکھ لو
رقص کرتی ہوئی موت کی اب خوشی دیکھ لو

دیکھ لو وقت نے تو بدل ہی دیا راستہ
خوف میں مبتلا ہے یہاں رہبری دیکھ لو

خوف ہی خوف کا راج ہے پل رہا چار سو
چُور ہے خوف سے ہر کوئی آدمی دیکھ لو

شہر کے شہر خالی ہوئے موت کے خوف سے
ہر سوالی نطر میں رچی بے بسی دیکھ لو

موج و مستی میں ڈوبے ہوئے لوگ تھے جا بجا
ایسی گلیوں میں اب نیند کی خود کشی دیکھ لو

اپنی اوقات میں آ گیا آدمی کس طرح!!!!
باپ سے دور بیٹے کی تم بے رخی دیکھ لو

جنگ کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی بیر ہے!!!
موت کی زندگی سے ہوئی دوستی دیکھ لو!!!

Comments are closed.