وہ ہوا چلی میں دعا سلام سے ڈر گئی

(راشدہ ماہین)

وہ ہوا چلی میں دعا سلام سے ڈر گئی
کہ ملے بغیر ہی تجھ سے لوٹ کے گھر گئی

یہ اذیتیں مرے فن کو اور نکھار دیں
ترے درد سے مری جان اور نکھر گئی

یہ جو بھاگتی ہوں میں دور میل ملاپ سے
وہ سمجھ رہا ہے میں دوستی سے مکر گئی

مری خوشبووں کی کہانیاں ہیں گلی گلی
میں گلاب پھینکتی راستے میں گزر گئی

مرے ہم نفس تو نے لوٹ آنے میں دیر کی
جو ندی تھی دل میں چڑھی ہوئی وہ اتر گئی

جنہیں جلنا تھا انہیں آگ دے کے میں آگئی
مجھے نام کرنا تھا شہر میں سو میں کر گئی

میں مشاعرے سے جو اٹھ کے کام سے آئی ہوں
سبھی پوچھتے ہیں کہ راشدہ تھی کدھر گئی

Comments are closed.