موت ھے اور موت کے خدشات ہیں

(وقاص احمد)

موت ھے اور موت کے خدشات ہیں
سنسنی ھے ان دِکھے خدشات ہیں

خوف پھیلا ھے وبا کے روپ میں
قریہ قریہ پل رہے خدشات ہیں

گر کوئی تریاق ھے وہ ھےیقیں
زہر کی صورت لیے خد شات ہیں

اس صدی کے آدمی , تو, ھے خدا؟
تو نے ہی پیدا کیے خد شات ہیں؟

دائرہ در دائرہ تشکیک ھے
بے طرح پھیلے ہوئے خدشات ہیں

تجھ میں ہمت ھے تو ان کو مات دے
اے نئے انساں نئے خدشات ہیں
— —

وہ گلی کے موڑ پر ھے منتظر
ڈررہا ہوں میں مرے خدشات ہیں

Comments are closed.