فی الحال مصافحہ نہ کر

(عطاحسین اطہر)

عنوان: فی الحال مودیت دست (فی الحال مصافحہ نہ کر)

شعر1: مہ کوڑان صاحب گار کی بیراٶ فی الحال مو دیت دست
تو مہ ژانو یار کی بیراٶ فی الحال مو دیت دست

ترجمہ: گر تو میرا جگر گوشہ ہے تو فی الوقت مصافحہ نہ کر اور اگر توقریںِ رگ جاں ہے تو فی الحال مصافحہ نہ کر۔

شعر2 نہ کی ہیہ فرض بیرائے نہ ہیہ واجب
صاحبِ دستارکی بیراٶ فی الحال مو دیت دست

ترجمہ: ( ان حالات میں)نہ یہ فرض ہے نہ سنت رسول ہے اس لیے تو اگر عالم و فاضل انسان ہے تو فی الحال مصافحہ نہ کر ۔

شعر3: زندہ زندگیو مݰکیر بریک مݰکیک غلط
اُمتو غمخوار کی بیراٶ فی الحال مو دیت دست

ترجمہ: زندہ ہمیشہ اللہ سے زندگی طلب کرتا ہے ۔موت کی تمنا گناہ ہے اگر تجھ میں امت کی غمخواری ہے تو ابھی مصافحہ نہیں کرنا

شعر4: جنگو تو میدانہ کی ہاٶ گفتار نہ کی دہکار
صاحب کردار کی بیراؤ فی الحال مو دیت دست

ترجمہ: میدان جنگ میں صرف گفتار کا غازی بننا بے کار ہے ۔ اگر تو صاحب کردار ہے تو عمل کرکے دیکھا اور مصافحہ نہ کر۔

شعر5: خوش وطنہ قارون ہائے سف بو پریشان
ملکھو وفادار کی بیراؤ فی الحال مودیت دست

ترجمہ: پیارے دیس میں وبا پھیلی ، سب لوگ مضطرب ہیں اگر تجھے اپنے ملک سے پیار ہے تو مصافحہ نہ کر۔

شعر6: باشعور ، عقلو خاون ہنون فاصلہ لاکھوئے
جم تو سمجھدار کی بیراٶ فی الحال مو دیت دست

ترجمہ: با شعور اور عقل و خرد والے آج معاشرتی فاصلے پر عمل کرتے ہیں تو بھی اگر سمجھدار ہے تو مصافحہ نہ کر۔

شعر7: نن گینی دوچھار مو بور پھوک احتیاط کورور
مہ شرین اسپڅارکی بیراؤ فی الحال مودیت دست

ترجمہ: مائیں اپنے بچوں کی پیشانی پر بوسہ ثبت کرنے سے گریز کریں بہنیں اپنے بھائیوں سے فی الحال ہاتھ نہ ملائیں

شعر8: مہ ملکھو درویش کی اسوس تت دی مہ اوجاد
شہرو قلمدار کی بیراؤ فی الحال مودیت دست

ترجمہ : میرے دیس کے درویش! تجھ سے میری التجا ہے تو اگر میرے شہر کے سچے قلندر ہیں تو ابھی خود کو لوگوں سے دور رکھیے اور ہاتھ نہ ملائیے۔

شعر9: “بیمارِ عشق را ز مسیحا چہ فائدہ”
اطہرو غون بیمار کی بیراؤ فی الحال مودیت دست

ترجمہ: مریض عشق کا افاقہ کسی طبیب کے علاج سے ممکن نہیں تو اگر اطہر کی طرح مرض عشق میں مبتلا ہے تو فلحال اپنے محبوب سے بھی ہاتھ نہ ملا ۔

Comments are closed.